سب سے زیادہ مقبول

نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قرآن کیسے پڑھتے تھے

حقیقی تلاوت صرف ختم کرنے کا نام نہیں، بلکہ قرآن کو دل میں اتارنے، زندگی میں اپنانے اور اپنے آپ کو بدلنے کا نام ہے۔

تمہید

نبی کریم (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) کی قرآن کی تلاوت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنی تلاوت کو کیسے گہرا، بامعنی اور روحانی بنا سکتے ہیں۔

تلاوت کو کھینچ کر پڑھنا

حضرت انسؓ نے فرمایا: نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) قرآن پڑھتے وقت اپنی آواز کو کھینچتے تھے۔

بخاری # 5046

فائدہ: آواز کو کھینچ کر پڑھنے سے غور و فکر کا موقع ملتا ہے، دل کو سکون ملتا ہے، اور قرآن کے الفاظ دل میں اچھی طرح اترجاتے ہیں۔

آہستہ اور صاف پڑھنا

حضرت ام سلمہؓ نے نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) کی تلاوت کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ آپ (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ہر حرف کو واضح اور الگ الگ پڑھتے تھے۔

ہدایۃ الرواة # 1167

فائدہ: آہستہ اور صاف پڑھنے سے، توجہ بڑھتی ہے، اور سننے والا اور پڑھنے والا دونوں پیغام کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

آیات کے آخر میں رکنا

حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)  اس طرح پڑھتے تھے:
"الحمد للہ رب العالمین” پھر رکتے،
"الرحمن الرحیم” پھر رکتے،
"مالک یوم الدین”

ترمذی # 2927

فائدہ: ہر آیت پر رکنے سے غور کرنے کا موقع ملتا ہے اور تلاوت سوچ سمجھ کر ہوتی ہے۔

دہرانا اور آواز میں نرمی لانا

حضرت عبداللہ بن مغفلؓ نے فرمایا: میں نے نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) کو سورہ فتح پڑھتے دیکھا، آپ (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نرم آواز میں پڑھ رہے تھے اور آواز میں اتار چڑھاؤ بھی تھا۔

بخاری # 5047

فائدہ: دہرانے اور نرم انداز سے پڑھنے سے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور قرآن کا مطلب دل میں اترتا ہے۔

تلاوت کو خوبصورت بنانا

نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) نے فرمایا:
"قرآن کو اپنی آواز سے خوبصورت بناؤ۔”

نسائی # 1015

:اور فرمایا

وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوبصورت آواز سے نہیں پڑھتا۔

بخاری # 7527

فائدہ: خوبصورت آواز سے پڑھنے سے دل پر اثر بڑھتا ہے اور تلاوت زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

خلاصہ

نبی (صَلَّى ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) کی تلاوت میں نہ جلدی ہوتی تھی اور نہ ہی وہ صرف رسمی تلاوت تھی
بلکہ وہ ایسی تلاوت تھی جو:

  • دل کو شامل کرتی تھی
  • سمجھ کو جگاتی تھی
  • عاجزی پیدا کرتی تھی
  • اور اللہ سے تعلق کو مضبوط کرتی تھی

حقیقی تلاوت صرف ختم کرنے کا نام نہیں، بلکہ قرآن کو دل میں اتارنے، زندگی میں اپنانے اور اپنے آپ کو بدلنے کا نام ہے۔

دوسرے لوگ كيا پڑھ رہے ہیں۔